Info Pickers: corona virus update
Showing posts with label corona virus update. Show all posts
Showing posts with label corona virus update. Show all posts

Tuesday, June 16, 2020

آج رات لاہور ‘فیصل آباد اور گوجرانوالہ کے 110علاقوں کو دو ہفتوں کے لیے سیل کر دیا جائے گا

June 16, 2020 1
آج رات لاہور ‘فیصل آباد اور گوجرانوالہ کے 110علاقوں کو دو ہفتوں کے لیے سیل کر دیا جائے گا

لاہور کے 80فیصل آباد کے 25اورگوجرانوالہ کے 5 پوش اور اہم علاقوں میں اسمارٹ لاک ڈاﺅن

لاہور(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔16 جون۔2020ء) حکومتی فیصلے کے تحت آج منگل اور بدھ کی درمیانی رات سے لاہور کے 80 علاقوں کو کرونا کے بڑھتے کیسز کے باعث سیل کر دیا جائے گا یہ فیصلہ عالمی وبا قرار دیے جانے والے کورونا وائرس کے بڑھتے ہوئے کیسز کے پیش نظر کیا گیا ہے‘ جن علاقوں کو آج رات سے سیل کیا جائے گا ان میں جوہرٹاﺅن کے بلاک اے، بی ون، ای، ایف2، جی، ایچ، جے اورآر شامل ہیں.
حکومتی فیصلے کے تحت مصطفیٰ ٹاﺅن، کنال ویو، ای ایم ای، واپڈا ٹاﺅن اور پی سی ایس آئی آر فیز2 بھی سیل کیے جائیں گے بحریہ ٹاوَن کا جیسمین، گلبہار، ایگزیکٹو بلاک، ڈی ایچ اے فیزون، تھری، فائیو اور فور، عسکری9 اور10 کومکمل طور پر سیل کیا جائے گا ڈویژنل کمشنرز کو زیادہ کیسز والے علاقے سیل کرنے کا اختیار مل گیا ہے. انتظامی فیصلے کے تحت ہاٹ اسپاٹ قرار دیے جانے کی وجہ سے علامہ اقبال ٹاﺅن کا ستلج بلاک، رچنہ بلاک، نرگس بلاک اوررضا بلاک سیل ہو گا‘ ماڈل ٹاﺅن کا بلاک بی، سی، جی، ایچ، اے، جے، کےاوراین بھی کرونا وائرس کے بڑھتے ہوئے کیسز کے سبب سیل رہے گا‘حکومتی فیصلے کے تحت آج رات سے گلبرگ میں ظفرعلی روڈ، ظہورالٰہی روڈ، ای ون بلاک، گلبرگ کا بلاک اے، تھری، بی ٹو، بی تھری اوربی ون بھی مہلک وبا میں اضافے کی وجہ سے بند کردیا جائے گاپنجاب کی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد کے مطابق جو علاقے سیل کیے جائیں گے وہ آئندہ دو ہفتے تک بند رہیں گے.
لاہور کے علاوہ گوجرانوالہ کے اہم علاقوں میں اسمارٹ لاک ڈاﺅن کا فیصلہ کر لیا گیا محکمہ صحت پنجاب کے مطابق گوجرانوالہ کے 5 پوش اور اہم علاقوں میں اسمارٹ لاک ڈاﺅن کا فیصلہ کیا گیا ہے جن علاقوں میں اسمارٹ لاک ڈاﺅن کا فیصلہ کیا گیا ان میں ماڈل ٹاﺅن، سٹیلائٹ ٹاﺅن، واپڈا ٹاﺅن، پیپلز کالونی اور قلعہ دیدار سنگھ شامل ہیں. محکمہ صحت نے رواں ماہ سب سے زیادہ کرونا سے متاثر ہونے والے علاقوں کی نشاند ہی کر دی وائرس سے زیادہ متاثرہ علاقوں میں پولیس لاک ڈاﺅن کے انتظامات سنبھالے گی .
اسی طرح پاکستان کے مانچسٹر فیصل آباد کے 25 علاقوں کو ہاٹ اسپاٹ قرار دیے کر سیل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے‘جن نثار کالونی، ستارہ کالونی، ایڈن گارڈن، النجف کالونی اور پیپلز کالونی نمبر 1 شامل ہیں‘حکومت کی جانب سے کیے جانے والے فیصلے کے تحت آفیسرز کالونی، رضا گارڈن، کچہری بازار اور مدینہ ٹاﺅن سمیت دیگر علاقے بھی کرونا وائرس کی وجہ سے سیل کیے جائیں گے. فیصل آباد میں کرونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 3800 سے زائد ہو چکی ہے جبکہ مہلک وبا کا نشانہ بن کر 92 افراد اپنی جانوں کی بازیاں بھی ہار چکے ہیں.

Monday, June 15, 2020

لاہور کے قبرستانوں میں جگہ ختم ہونے لگی

June 15, 2020 0
لاہور کے قبرستانوں میں جگہ ختم ہونے لگی

شہر خموشاں میں تدفین کا ریٹ( دس ہزار) تک پہنچ گیا


لاہور(انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔15 جون۔2020ء) پنجاب کے صوبائی دارالحکومت لاہور میں شہریوں کے لیے اپنے پیاروں کی تدفین مشکل ہو گئی شہر خموشاں میں تدفین کا ریٹ دس ہزار تک پہنچ گیا ہے. تفصیلات کے مطابق صوبائی دارالحکومت میں شہریوں کے یے اپنے پیاروں کی تدفین مشکل ہو گئی شہر خموشاں میں تدفین کا ریٹ دس ہزار تک پہنچ گیا نجی سوسائٹیز میں تدفین کے لئے تو من مانے پیسے وصول کئے ہی جاتے ہیں لیکن شہر کے سرکاری قبرستانوں کے حالات بھی کچھ اچھے نہیں رہے. میانی صاحب کی بات کریں تو وہاں قبرستان کمیٹی کی جانب سے برائے کچا کھاتہ 250 پکا کھاتہ ایک ہزار جبکہ 9 ہزار 500 روپے گورکن کے اخراجات معہ میٹریل مقرر ہے پنجاب اسمبلی میں جمع ہونے والی ایک رپورٹ میں بتایا گیا کہ قبرستان کاہنہ میں قبر کے لیے مجوعی طور پر دس ہزار ادا کرنا ہوتے ہیں. شہریوں کا کہنا ہے کہ حکومت تدفین کے معاملات کوآسان بنانے پر توجہ دے انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ شہر کی آبادی کے لحاظ سے سرکاری سطح پر مزید قبرستانوں کیلئے جگہ مختص کی جائے میانی صاحب قبرستان انتظامیہ نے قبرستان کو کمائی کا ذریعہ بنالیا، میانی صاحب قبرستان انتظامیہ کی آشیربادسے قبرستان کی حدود اور فٹ پاتھوں پر تجاوزات قائم ہوگئیں.
کروڑوں کی لاگت سے تعمیر کی گئی دیواروں اور جنگلوں کو مسمار کرکے پھولوں کی دکانیں بنوادی گئیں دکانداروں کا کہنا تھا کہ 25 سو ماہوار کرایہ میانی صاحب قبرستان انتظامیہ کو ادا کرتے ہیں، ایک سال کے کنٹریکٹ پر دکان لگانے کی اجازت ملی ہے. میانی صاحب قبرستان میں ڈپٹی ڈائریکٹر لوکل گورنمنٹ اینڈ کمیونٹی ڈویلپمنٹ کی اجازت سے دکانیں لگائی گئیں، قبرستان کی حدود میں لگی دکانوں سے کرایہ وصول کیا جاتا ہے جبکہ فٹ پاتھوں والے دکاندارکرایہ دار نہیں. ایک طرف کروڑوں کی مالیت سے میانی صاحب قبرستان کی دیواروں اور جنگلوں کی تعمیر کی گئی جبکہ دوسری جانب قبرستان انتظامیہ نے کمائی کی لالچ میں دیواروں اور جنگلوں کو توڑ کر پھولوں کی دکانیں بنوا دی ہیں.